سربلند رہنا ہے،۔ سربلند ہو لیں گے
دشمنوں کے نیزوں پر اپنے سر کو تولیں گے
اس چمک دمک میں بھی اک غبار سا کچھ ہے
کیا خبر تھی، آئینے ہم سے جھوٹ بولیں گے
دیدنی ہے حال اپنا، اے دلِ شکستہ اب
اور تو نہ ہو گا کچھ، چپکے چپکے رو لیں گے
طے ہوا سفر دن کا اب تھکے مسافر بھی
رات کی رداؤں میں سر چھپا کے رو لیں گے
پھر گواہیاں دیں گے زخم چاند تاروں کی
شام کی فصیلوں پر جب چراغ بولیں گے
مختار شمیم
No comments:
Post a Comment