Tuesday, 5 January 2021

آئے تھے گھر میں آگ لگانے شریر لوگ

 آئے تھے گھر میں آگ لگانے شریر لوگ

اور ہنس رہے تھے دور کھڑے بے ضمیر لوگ

ہمت کہاں ہے مجھ میں کہ سچ بول کر دکھاؤں

بیٹھے ہوئے ہیں جوڑے کمانوں میں تیر لوگ

ہر آدمی کے لب پہ ہے اک دل شکن سوال

آخر کہاں چلے گئے وہ دل پذیر لوگ

اک روز کہہ دیا تھا حقیر انکسار میں

یہ بات سچ سمجھ گئے سارے حقیر لوگ

دستِ طلب دراز کریں بھی تو کیا کریں

دیکھے گئے ہیں دست نگر دستگیر لوگ

جو پوچھنا ہے پوچھ لے اور چھوڑ راستہ

ٹکتے نہیں کسی بھی جگہ ہم فقیر لوگ

برپا کیا گیا تھا غریبی مٹاؤ جشن

شامل تھے اس میں شہر کے سارے امیر لوگ


ہوش جونپوری

(اصغر مہدی ہوش)

No comments:

Post a Comment