غور کرتے ہیں تو فطرت کا پتہ چلتا ہے
دشت، ٹیلوں کے تعاقب میں ہوا رکھتا ہے
بڑھتی جاتی ہے چراغوں کو بُجھانے سے نگاہ
لگتے لگتے یہ ہُنر ہاتھ کہیں لگتا ہے
ہم تِرے پاس بہانے سے چلے آتے ہیں
تِیر کو فاصلہ طے کرنا نہیں پڑتا ہے
آستیں کھول دی بازو بھی کھلے رکھے ہیں
دیکھنا ہے کہ تُو کب، کیسے، کہاں ڈستا ہے
میں نے اک خواب کے گارے سے بنایا ہے مکاں
جاگتا ہوں تو مِرا کچھ بھی نہیں بچتا ہے
توڑ کے ضبط کی دِیوار بہیں گے آنسو
دو کِناروں سے کہاں آبِ رواں رُکتا ہے
اس لیے رکھتا ہوں رفتار میں آہستہ مقیم
تیز چلتا ہوں فلک پاؤں میں آ لگتا ہے
رضوان مقیم
No comments:
Post a Comment