کتنی مشکل یہ زندگی کر لی
ہم نے وحشت سے دوستی کر لی
ماہ و انجم سے اب نہیں نسبت
جلتے سورج سے عاشقی کر لی
تم نے بستی کو کربلا سمجھا
ہم نے دنیا ہی ماتمی کر لی
دیکھ کر اس چمن کی ویرانی
چشمِ حیرت بھی شبنمی کر لی
ظلمتِ شب نے طول کھینچا تو
اک دِیے سے ہی روشنی کر لی
میں نے صرف آئینہ دکھایا تھا
اور لوگوں نے دشمنی کر لی
ان سے شکوہ سعید کیا کرتے
دل جو ٹُوٹا تو شاعری کر لی
معظم سعید
No comments:
Post a Comment