مجھے پسند ہے
بارشوں کے بعد کی گیلی مٹی کی باس
بے رنگ بہاروں سے زیادہ
خشک پتوں سے اٹی خزاں
کسی بھی اور موسم سے زیادہ
یخ بستہ اداس جاڑے
اور برف پوش پہاڑوں کو چھو کر
آنے والی سرد ہوائیں
چاند راتوں سے زیادہ
تاروں بھری راتیں
صبح سویرے
پرندوں کی آوازوں سے اُٹھ جانا
اور ملجگی رات کو
اجالے میں بدلتے دیکھنا
اداس، گہری آنکھیں
مجھے پسند ہیں
دل کھول کر قہقہے لگاتے
اندر سے خالی لوگ
کھنکتی ہوئی ہنسی
اور عمدہ حس مزاح
مجھے پسند ہے
سیاہ لباس
سرخ لپ اسٹک
آرام دہ جوتے
اور پُرسکون فیشن
سرد ہوا میں
شوخ رنگوں کی گرم شال اوڑھے
بے مقصد تنہا چلنا
اور چلتے چلتے
وہ سب سوچنا جو کبھی ہوا ہی نہیں
ہلکے رنگ کی جینز کے اوپر
گہرے رنگوں کے کوٹ
اور سرخ مفلر
شیفون کی کھِلے کھِلے رنگوں کی ساڑھیاں
مجھے پسند ہے
کافی کا خالی مگ لے کر
کسی دور افتادہ ریسٹ ہاؤس کے ٹیرس پر
پہاڑی راستوں کی
پگڈنڈیوں کو تکتے رہنا
مجھے پسند ہیں
پرانے ہندی گانے
جگجیت چترا اور
پنکج ادھاس کی غزلیں
ستر اور اسی کی دہائی کی
فلموں کے گانے اور
موسیقیت سے بھرپور ڈائیلاگ
پاکیزہ کی صاحب جان
اور مغل اعظم کی انارکلی
بانو قدسیہ کا راجہ گدھ
اور منٹو کے افسانے
فیض اور فراز کی غزلیں
گلزار، پروین شاکر
اور محسن نقوی کی شاعری
تہذیب اور رکھ رکھاؤ میں ڈھلی
طوائفوں کے پرانے کردار
نصرت اور راحت کی قوالیاں
آسیب زدہ کھنڈر، مزار
اور تاریخی، تہذیبی عمارتیں
لیکن، اس سب سے بڑھ کر
مجھے پسند ہے
وہ سب
جو آپ کو پسند ہو
رضوانہ انجم
No comments:
Post a Comment