Tuesday, 17 August 2021

مجھے پسند ہے جو آپ کو پسند ہو

مجھے پسند ہے

بارشوں کے بعد کی گیلی مٹی کی باس

بے رنگ بہاروں سے زیادہ

خشک پتوں سے اٹی خزاں

کسی بھی اور موسم سے زیادہ

یخ بستہ اداس جاڑے

اور برف پوش پہاڑوں کو چھو کر

آنے والی سرد ہوائیں

چاند راتوں سے زیادہ

تاروں بھری راتیں

صبح سویرے

پرندوں کی آوازوں سے اُٹھ جانا

اور ملجگی رات کو

اجالے میں بدلتے دیکھنا

اداس، گہری آنکھیں

مجھے پسند ہیں

دل کھول کر قہقہے لگاتے

اندر سے خالی لوگ

کھنکتی ہوئی ہنسی

اور عمدہ حس مزاح

مجھے پسند ہے

سیاہ لباس

سرخ لپ اسٹک

آرام دہ جوتے

اور پُرسکون فیشن

سرد ہوا میں

شوخ رنگوں کی گرم شال اوڑھے

بے مقصد تنہا چلنا

اور چلتے چلتے

وہ سب سوچنا جو کبھی ہوا ہی نہیں

ہلکے رنگ کی جینز کے اوپر

گہرے رنگوں کے کوٹ

اور سرخ مفلر

شیفون کی کھِلے کھِلے رنگوں کی ساڑھیاں

مجھے پسند ہے

کافی کا خالی مگ لے کر

کسی دور افتادہ ریسٹ ہاؤس کے ٹیرس پر

پہاڑی راستوں کی

پگڈنڈیوں کو تکتے رہنا

مجھے پسند ہیں

پرانے ہندی گانے

جگجیت چترا اور

پنکج ادھاس کی غزلیں

ستر اور اسی کی دہائی کی

فلموں کے گانے اور

موسیقیت سے بھرپور ڈائیلاگ

پاکیزہ کی صاحب جان

اور مغل اعظم کی انارکلی

بانو قدسیہ کا راجہ گدھ

اور منٹو کے افسانے

فیض اور فراز کی غزلیں

گلزار، پروین شاکر

اور محسن نقوی کی شاعری

تہذیب اور رکھ رکھاؤ میں ڈھلی

طوائفوں کے پرانے کردار

نصرت اور راحت کی قوالیاں

آسیب زدہ کھنڈر، مزار

اور تاریخی، تہذیبی عمارتیں

لیکن، اس سب سے بڑھ کر

مجھے پسند ہے

وہ سب

جو آپ کو پسند ہو


رضوانہ انجم

No comments:

Post a Comment