جس موڑ پر کیے تھے ہم نے قرار برسوں
اس سے لپٹ کے روئے دیوانہ وار برسوں
تم گلسـتان سے آئے، ذکرِ خزاں ہی لائے
ہم نے قفس میں دیکھی فصلِ بہار برسوں
ہوتی رہی ہے یوں تو، برسات آنسوؤں کی
اٹھتے رہے ہیں پھر بھی، دل سے غبار برسوں
وہ سنگ دل تھا کوئی، بے گانۂ وفا تھا
کرتے رہے ہیں جس کا ہم انتظار برسوں
سدرشن فاکر
No comments:
Post a Comment