Tuesday, 17 August 2021

جس موڑ پر کیے تھے ہم نے قرار برسوں

 جس موڑ پر کیے تھے ہم نے قرار برسوں

اس سے لپٹ کے روئے دیوانہ وار برسوں

تم گلسـتان سے آئے، ذکرِ خزاں ہی لائے 

ہم نے قفس میں دیکھی فصلِ بہار برسوں

ہوتی رہی ہے یوں تو، برسات آنسوؤں کی

اٹھتے رہے ہیں پھر بھی، دل سے غبار برسوں

وہ سنگ دل تھا کوئی، بے گانۂ وفا تھا

کرتے رہے ہیں جس کا ہم انتظار برسوں


سدرشن فاکر

No comments:

Post a Comment