Tuesday, 17 August 2021

غیظ کا سورج تھا سر پر سچ کو سچ کہتا تو کون

 غیظ کا سورج تھا سر پر سچ کو سچ کہتا تو کون

راس آتا کس کو محشر سچ کو سچ کہتا تو کون

سب نے پڑھ رکھا تھا سچ کی جیت ہوتی ہے مگر

تھا بھروسہ کس کو سچ پر سچ کو سچ کہتا تو کون

مان رکھتا کون وش کا، کون اپناتا صلیب

کوئی عیسیٰ تھا نہ شنکر سچ کو سچ کہتا تو کون

تھا کسی کا بھی نہ مقصد سچ کو جھٹلانا مگر

منہ میں رکھ کر لقمۂ تر سچ کو سچ کہتا تو کون

آدمی تو خیر سے بستی میں ملتے ہی نہ تھے

دیوتا تھے سو تھے پتھر سچ کو سچ کہتا تو کون

سب حقیقت میں ابھرتا جب بھی سچ لگتا نہ تھا

خواب میں ہوتے اجاگر سچ کو سچ کہتا تو کون

یاد تھا سقراط کا قصہ سبھی کو احترام

سوچئے ایسے میں بڑھ کر سچ کو سچ کہتا تو کون


احترام اسلام

No comments:

Post a Comment