Tuesday, 17 August 2021

غلام خواہش دل ہے جہانبانی کا دعویٰ ہے

 غلامِ خواہشِ دل ہے، جہانبانی کا دعویٰ ہے

خبر اپنی نہیں لیکن ہمہ دانی کا دعویٰ ہے

حفاظت ہم سے اپنے مال و زر کی ہو نہیں سکتی

پرائی چیز کی لیکن نگہ بانی کا دعویٰ ہے

دکھائی دے رہا ہے جس کا دامن خون آلودہ

تعجب ہے اسے بھی پاک دامانی کا دعویٰ ہے

ہوئی ہے بارشِ سنگِ ملامت شہر میں ہم پر

لبِ احباب پر لیکن گُل افشانی کا دعویٰ ہے

حصولِ زر کا جو کل تک مخالف تھا زمانے میں

اسے بھی آج دولت کی فراوانی کا دعویٰ ہے

تِری خاطر دیا ہے خون ہم نے بھی مگر لب پر

نہ حرفِ خود ستائی ہے، نہ قربانی کا دعویٰ ہے

پروں میں کچھ نہیں پرواز کی طاقت مگر شاہد

تمناؤں کے طائر کو پر افشانی کا دعویٰ ہے


حفیظ شاہد

No comments:

Post a Comment