Tuesday, 17 August 2021

جس کو بھی دیکھو ترے در کا پتہ پوچھتا ہے

 جس کو بھی دیکھو تِرے در کا پتہ پوچھتا ہے

قطرہ قطرے سے سمندر کا پتہ پوچھتا ہے

ڈھونڈتا رہتا ہوں آئینے میں اکثر خود کو

میرا باہر مِرے اندر کا پتہ پوچھتا ہے

ختم ہوتے ہی نہیں سنگ کسی دن اس کے

روز وہ ایک نئے سر کا پتہ پوچھتا ہے

ڈھونڈتے رہتے ہیں سب لوگ لکیروں میں جسے

وہ مقدر بھی سکندر کا پتہ پوچھتا ہے

مسکراتے ہوئے میں بات بدل دیتا ہوں

جب کوئی مجھ سے مِرے گھر کا پتہ پوچھتا ہے

در و دیوار ہیں میرے یہ غزل کے مصرعے

کیا سخن ور سے سخن ور کا پتہ پوچھتا ہے


راجیش ریڈی

No comments:

Post a Comment