Sunday, 4 December 2022

گر دوستی میں آج بھی اپنا مقام ہے

 گر دوستی میں آج بھی اپنا مقام ہے

دشمن کی صف میں بھی ہمیں شہرت تمام ہے

یہ اسلحے کی تھاپ کسی اور کو سنا

لشکر کشی تو میرے قبیلے میں عام ہے

خیبر ہو کربلا ہو یا ملتان کا قلعہ

ان سب پہ آج بھی میرے آباء کا نام ہے

ہو جس کو بھی غرور رگ دشمن پہ وار کا

چپکے سے جاں لٹانا بھی اس کا ہی کام ہے

تلوار اور قلم کا حسیں امتزاج ہے

شہباز لامکاں کا یہ ادنیٰ غلام ہے 

 

کاشف سلطان

No comments:

Post a Comment