Wednesday, 5 April 2023

جینے کی اداکاری ہے ارمان نہیں ہے

 جینے کی اداکاری ہے ارمان نہیں ہے

تشبیہ ہے انسان کی انسان نہیں ہے 

چرچا ہے بہت موت کا احباب اگرچہ 

جینا بھی کٹھن کام ہے آسان نہیں ہے 

اب آنکھ کو بہلائیں گے ہم اور ہنر سے 

اب خواب کی تعبیر کا امکان نہیں ہے

ان آبلوں کے دور سے حیرت کے سفر تک

دل جانتا تھا راستہ آسان نہیں ہے

ششدر ہے مرے حال پہ ہر شخص، مگر دل 

حیران ہوں اس بات پہ حیران نہیں ہے

گزرا ہے مِرے پاس سے جو اجنبی بن کر 

واقف ہے مِرے حال سے انجان نہیں ہے

احوال پریشان، پشیمان بھلا کیوں 

ایسا بھی کوئی درد کہ درمان نہیں ہے

 اک آنکھ ہے جو خواب سے بیزار ازل سے 

اک خواب ہے جو نیند کے دوران نہیں ہے


علی ساحر

No comments:

Post a Comment