جینے کی اداکاری ہے ارمان نہیں ہے
تشبیہ ہے انسان کی انسان نہیں ہے
چرچا ہے بہت موت کا احباب اگرچہ
جینا بھی کٹھن کام ہے آسان نہیں ہے
اب آنکھ کو بہلائیں گے ہم اور ہنر سے
اب خواب کی تعبیر کا امکان نہیں ہے
ان آبلوں کے دور سے حیرت کے سفر تک
دل جانتا تھا راستہ آسان نہیں ہے
ششدر ہے مرے حال پہ ہر شخص، مگر دل
حیران ہوں اس بات پہ حیران نہیں ہے
گزرا ہے مِرے پاس سے جو اجنبی بن کر
واقف ہے مِرے حال سے انجان نہیں ہے
احوال پریشان، پشیمان بھلا کیوں
ایسا بھی کوئی درد کہ درمان نہیں ہے
اک آنکھ ہے جو خواب سے بیزار ازل سے
اک خواب ہے جو نیند کے دوران نہیں ہے
علی ساحر
No comments:
Post a Comment