رُت بدلتی ہے، تو آثار بدل جاتے ہیں
اٹھیے چوپال سے تو یار بدل جاتے ہیں
ایک دو دن کوئی دستک نہیں دیتا ہے اگر
میرے گھر کے در و دیوار بدل جاتے ہیں
کچھ تو کردار بدلتے ہیں کہانی اپنی
کیا مسیحائی کی توفیق پہ لبیک کہیں
دیکھیے مڑ کے تو بیمار بدل جاتے ہیں
آج کے سچ کی گواہی ہے فقط آج کا دن
دوسرے دن رسن و دار بدل جاتے ہیں
رات کو سوتا ہوں آزار کا عادی ہو کر
صبح ہوتی ہے تو آزار بدل جاتے ہیں
تکیہ کر لیتا ہوں میں اپنے طرفداروں پر
اور پھر میرے طرف دار بدل جاتے ہیں
جب ضرورت مجھے پڑتی ہے مدد کی محسنؔ
سب مِرے صاحبِ ایثار بدل جاتے ہیں
محسن اسرار
No comments:
Post a Comment