بازار کی گرمی کو حِدت نہیں گردانا
قیمت کو کسی شے کی قیمت نہیں گردانا
نیلام کِیا ہم نے حساس طبیعت کو
جب دل نے تمنا کو حسرت نہیں گردانا
دکھ ہجر کے کھولے ہیں بستر کی اذیت نے
مٹھی میں رکھا ہم نے اڑتے ہوئے بالوں کو
وحشت کو کبھی ہم نے وحشت نہیں گردانا
بدنام ہوئی میری شمشیر کی عریانی
دشمن نے مروت کو مہلت نہیں گردانا
تبدیل کیا گویا ترتیبِ عناصر کو
جانے کو ترے ہم نے ہجرت نہیں گردانا
جب زہر دیا اس نے ہم جاں سے نہیں گزرے
حیرانی کے عالم کو حیرت نہیں گردانا
کچھ دل ہی ملوث تھا خدشوں کی ترقی میں
اک رنج کو بھی غم کی صورت نہیں گردانا
حیرت کے تناظر میں دھوکا دیا آنکھوں نے
سرخی کو ترے لب کی سرخی نہیں گردانا
بیٹھا تھا سرِ محفل ہو کر میں دھواں، لیکن
یاروں نے مجھے حسبِ حالت نہیں گردانا
میں نے تو اسے محسنؔ سو روپ دیے پھر بھی
اس نے مری صورت کو صورت نہیں گردانا
محسن اسرار
No comments:
Post a Comment