اس کی جزبز سے پریشان نہیں ہو سکتا
دل اگر دل ہے، تو ہلکان نہیں ہو سکتا
یاد اس کی ہے تو برباد نہیں ہوسکتی
ذہن میرا ہے تو بے دھیان نہیں ہو سکتا
کس قناعت سے رہا گھر مِرے آ کر مہمان
میرا جو حال ہوا دل کے حوالے سے ہُوا
دل بھی ایسا، جو پشیمان نہیں ہو سکتا
میں نے اک شخص سے، خاموش محبت کی ہے
یعنی ہم دونوں کا نقصان نہیں ہو سکتا
کارِ دشوار نمٹتا نہیں، جب تک محسنؔ
کام مجھ پر کوئی آسان نہیں ہو سکتا
محسن اسرار
No comments:
Post a Comment