Sunday, 6 February 2022

گزر چکا ہے زمانہ وصال کرنے کا

 گزر چکا ہے زمانہ وصال کرنے کا

یہ کوئی وقت ہے تیرے کمال کرنے کا

برا نہ مان جو پہلو بدل رہا ہوں میں

مِرا طریقہ ہے یہ عرض حال کرنے کا

مجھے اداس نہ کر ورنہ ساکھ ٹوٹے گی

نہیں ہے تجربہ مجھ کو ملال کرنے کا

تلاش کر مِرے اندر وجود کو اپنے

ارادہ چھوڑ مجھے پائمال کرنے کا

یہ ہم جو عشق میں بیمار پڑتے رہتے ہیں

یہ اک سبب ہے تعلق بحال کرنے کا

عجیب شخص تھا لوٹا گیا مِرا سب کچھ

معاوضہ نہ لیا دیکھ بھال کرنے کا

پھر اس کے بعد ہمیشہ ہی چپ رہے محسن

خراج دینا پڑا عرضِ حال کرنے کا


محسن اسرار

No comments:

Post a Comment