Sunday, 6 February 2022

اس محبت میں تمناؤں کے دھارے جیسی

 اس محبت میں تمناؤں کے دھارے جیسی

ہر گھڑی ہم کو ملی جاں کے خسارے جیسی

لاکھ ڈھونڈا ہے میرے ذوقِ نظر نے، لیکن

کوئی ہستی نہ ملی ہم کو تمہارے جیسی

ٹوٹ کے مجھ کو بھی اک روز بکھر جانا ہے

ڈھل گئی موج میں جو ریت کنارے جیسی

اور بھی لوگ پریشان ہیں تیری خاطر

کس شدت ہے مگر غم میں ہمارے جیسی

کسی گلشن کی ہو، چاہے وہ کسی دشت کی ہو

مجھ کو منظور ہے آواز پکارے جیسی

راکھ ہونے کو تھا امید کا امکان، مگر

ایک چنگاری بھڑک اٹھی شرارے جیسی

ڈھل گئی صبح کے سانچے میں وہ ڈھلتے ڈھلتے

وہ جو سینے میں تمنا تھی ستارے جیسی


عارفہ صبح خان

No comments:

Post a Comment