Sunday, 6 February 2022

کچھ موتی بے تاب تھے میرے بستے میں

 کچھ موتی بے تاب تھے میرے بستے میں

بابا کے کچھ خواب تھے میرے بستے میں

ماں نے بستہ سوچوں سے بھر ڈالا تھا

ماں کے بھی اعصاب تھے میرے بستے میں

کُوڑا پھینکنے والوں سے بھی کرنا پیار

ایسے کچھ آداب تھے میرے بستے میں

غم کے ساحل دور تلک نا دِکھتے تھے

خوشیوں کے گرداب تھے میرے بستے میں

کاپی پنسل اب تک بھیگی رہتی ھے

ایسے کچھ سیلاب تھے میرے بستے میں


ندیم راجہ

No comments:

Post a Comment