کچھ موتی بے تاب تھے میرے بستے میں
بابا کے کچھ خواب تھے میرے بستے میں
ماں نے بستہ سوچوں سے بھر ڈالا تھا
ماں کے بھی اعصاب تھے میرے بستے میں
کُوڑا پھینکنے والوں سے بھی کرنا پیار
ایسے کچھ آداب تھے میرے بستے میں
غم کے ساحل دور تلک نا دِکھتے تھے
خوشیوں کے گرداب تھے میرے بستے میں
کاپی پنسل اب تک بھیگی رہتی ھے
ایسے کچھ سیلاب تھے میرے بستے میں
ندیم راجہ
No comments:
Post a Comment