تمہاری قسموں، تمہارے وعدوں کا کیا بنے گا
وہ مل کے مانگی ہوئی مرادوں کا کیا بنے گا
ذرا سی مشکل میں تم جو رستہ بدل رہے ہو
کہ ساتھ جینے کے اُن ارادوں کا کیا بنے گا
برہنہ جسموں کو ڈھانپ رکھا ہے تیرگی نے
سحر جو پھوٹی تو بے لبادوں کا کیا بنے گا
بناں ستونوں کے آسماں جو کھڑا ہوا ہے
یہ گر پڑا تو زمین زادوں کا کیا بنے گا
پرانے قصّوں کی شاہزادی بدل چکی ہے
نئے فسانوں کے شاہزادوں کا کیا بنے گا
اُجاڑ دل کو اسی لیے تو بسا نہ پایا
میں سوچتا تھا تمہاری یادوں کا کیا بنے گا
ارشد محمود
No comments:
Post a Comment