کوئی حصے کی بھلائی نہیں دیتا اس کو
جب خدا اپنی رسائی نہیں دیتا اس کو
کس قدر پڑ گئے انسان یہاں غفلت میں
خوفِ الله دکھائی نہیں دیتا اس کو
کارِ دنیا میں جو مصروف رہا کرتا ہے
درِ محبوب رسائی نہیں دیتا اس کو
اس کی آواز اتر جاتی ہے دل میں، ورنہ
دعوتِ نظم سرائی نہیں دیتا اس کو
خوابِ یوسف نہ اگر ہوتا مکمل کرنا
تو خدا کربِ جدائی نہیں دیتا اس کو
کم نظر سے کوئی بھی رشتہ نہیں اپنا رئیس
اس لیے اپنی صفائی نہیں دیتا اس کو
رئیس احمد
No comments:
Post a Comment