Sunday, 6 February 2022

کوئی حصے کی بھلائی نہیں دیتا اس کو

 کوئی حصے کی بھلائی نہیں دیتا اس کو

جب خدا اپنی رسائی نہیں دیتا اس کو

کس قدر پڑ گئے انسان یہاں غفلت میں

خوفِ الله دکھائی نہیں دیتا اس کو

کارِ دنیا میں جو مصروف رہا کرتا ہے

درِ محبوب رسائی نہیں دیتا اس کو

اس کی آواز اتر جاتی ہے دل میں، ورنہ

دعوتِ نظم سرائی نہیں دیتا اس کو

خوابِ یوسف نہ اگر ہوتا مکمل کرنا

تو خدا کربِ جدائی نہیں دیتا اس کو

کم نظر سے کوئی بھی رشتہ نہیں اپنا رئیس

اس لیے اپنی صفائی نہیں دیتا اس کو


رئیس احمد

No comments:

Post a Comment