Sunday, 6 February 2022

لڑکھڑاتا ہوں جھومتا ہوں میں

 لڑکھڑاتا ہوں جھومتا ہوں میں

جب تِرا نام چومتا ہوں میں

تم سمجھتے ہو اک گلی جس کو

میری جنت ہے گھومتا ہوں میں

ایک کھڑکی کھلی ہی رہتی ہے

کوئی روتا ہے جھانکتا ہوں میں

ساتھ کیسے رکھو گی مجھ کو تم

اک بھٹکتی تو آتما ہوں میں

دوست کرتا ہے اس کی تعریفیں

ہنستا ہوں اس سے آشنا ہوں میں

جانتی بھی نہیں وہ لڑکی زیب

عشق میں جس کے مبتلا ہوں میں


زیب اوریا

No comments:

Post a Comment