Wednesday, 16 February 2022

مجھے ملال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے

مجھے ملال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے

مگر یہ حال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے

میں ٹوٹتا بھی ہوں اور خود ہی جڑ بھی جاتا ہوں

کہ یہ کمال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے

پکارتا بھی وہی ہے مجھے سفر کے لیے

سفر محال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے

جواب دیتا ہے میرے ہر اک سوال کا وہ

مگر سوال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے

وہ میرے حال سے مجھ کو ہی بے خبر کر دے

یہ احتمال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے

میں اس کے ہجر میں کیوں ٹوٹ کر نہیں رویا

یہ اک سوال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے

جب آگہی مجھے گمراہ کرتی ہے محسن

جنوں بحال بھی اس کی طرف سے ہوتا ہے


محسن اسرار

No comments:

Post a Comment