زخم نیلے پھول جیسا دے کے رُخصت ہو گیا
وہ ہمیں کیسا یہ تحفہ دے کے رخصت ہو گیا
کس کی آہٹ رات بھر مصرع کشی کرتی رہی
کون سناٹوں کو لہجہ دے کے رخصت ہو گیا
صبح کی پہلی کرن کے جاگنے میں دیر تھی
چاند پیشانی پہ بوسہ دے کے رخصت ہو گیا
آسماں کی اور جاتا ہوں میں گہری نیند میں
وہ مجھے خوابوں کا زینہ دے کے رخصت ہو گیا
سب مجھے آوارگی سے روکنے والے گئے
آخری پتھر بھی رستہ دے کے رخصت ہو گیا
مجھ کو نفسِ مطمئنہ کی رہی برسوں تلاش
جانے والا تو دلاسہ دے کے رخصت ہو گیا
وا کیا میں نے قفس کے باب کو، یاور عظیم
اور دُعا کوئی پرندہ دے کے رخصت ہو گیا
یاور عظیم
No comments:
Post a Comment