درد بوئے تو ہنر کاٹے ہیں
خون ٹپکا کے سخن بانٹے ہیں
تنگ تاریک، تخیل کا نگر
صرف سناٹے ہی سناٹے ہیں
زخم کے پھول سجائے لب پہ
قلب میں دھنستے ہوئے کانٹے ہیں
گھات میں بیٹھے ہیں احباب مگر
رخ پہ باندھے ہوئے سب، ڈھاٹے ہیں
سرحدِ دید پہ ہے بے خوابی
ملکِ امید میں خراٹے ہیں
آس آ آ کے پلٹ جاتی ہے
آسروں نے بھی لہو چاٹے ہیں
یہ وفا، اور جنوں کا سودا
ساجدہ سوچ لے بس گھاٹے ہیں
ساجدہ انور
No comments:
Post a Comment