صورتِ شعر جو پیغامِ الست آیا ہے
بادۂ عشق میں ڈوبا ہوا مست آیا ہے
میری آشفتہ مزاجی کا تقاضا تھا یہی
ہر کوئی ملنے مجھے سنگ بہ دست آیا ہے
لوحِ محفوظ پہ لکھا گیا جب نام مِرا
خامۂ عشق پہ بس حرفِ شکست آیا ہے
اُس زمانے کو میں کس طرح زمانہ کہہ دوں
جب کہیں بُود ہی آیا ہے نہ ہست آیا ہے
تذکرہ کس کا سرِ عرشِ بریں ہے پھر سے
کون افلاک سے آگے دمِ جست آیا ہے
میرِ مے خانہ بھی تعظیم کو اُٹھا اُس کی
بادہ خواروں میں کوئی بادہ پرست آیا ہے
چشمِ ساقی کا اثر جعفری میں نے دیکھا
جو بھی اُس بزم سے آیا ہے وہ مست آیا ہے
مقصود جعفری
No comments:
Post a Comment