عرفان والی مے کے بلا نوش ہو گئے
باطل کے سامنے وہی پُر جوش ہو گئے
تیر و تفنگ و تیغ کی باتیں زبان پر
وقت آ پڑا تو زینتِ آغوش ہو گئے
جغرافیہ بچا نہ سکے جو بھی دہر میں
تاریخ کہہ رہی ہے؛ فراموش ہو گئے
وہ بندگانِ حق کہ مصمم تھا جن کا عزم
بڑھتے گئے ثریا کے ہم دوش ہو گئے
ہم جب حجاز والے تھے تو لے تھی منفرد
اہلِ عجم سے مل کے سیہ پوش ہو گئے
دانش اثری
No comments:
Post a Comment