مِرے بارے میں کچھ سوچو مجھے نیند آ رہی ہے
مجھے ضائع نہ ہونے دو، مجھے نیند آ رہی ہے
مِرے اندر کے دُکھ چہرے سے ظاہر ہو رہے ہیں
مِری تصویر مت کھینچو، مجھے نیند آ رہی ہے
تو کیا سارے گِلے شکوے ابھی کر لو گے مجھ سے
کچھ اب کل کے لیے رکھو، مجھے نیند آ رہی ہے
سحر ہو گی تو دیکھیں گے کہ ہیں کیا کیا مسائل
ذرا سی دیر سونے دو، مجھے نیند آ رہی ہے
تمہارا کام ہے ساری حِسیں بیدار رکھنا
مِرے شانے پہ سر رکھو مجھے نیند آ رہی ہے
بہت کچھ تم سے کہنا تھا مگر میں کہہ نہ پایا
لو میری ڈائری رکھ لو، مجھے نیند آ رہی ہے
محسن اسرار
No comments:
Post a Comment