Monday, 17 May 2021

تم بھٹک جاؤ تو کچھ ذوق سفر آ جائے گا

 تم بھٹک جاؤ تو کچھ ذوقِ سفر آ جائے گا

مختلف رستوں پہ چلنے کا ہنر آ جائے گا

میں خلا میں دیکھتا رہتا ہوں اس امید پر

ایک دن مجھ کو اچانک تُو نظر آ جائے گا

تیز اتنا ہی اگر چلنا ہے، تنہا جاؤ تم

بات پوری بھی نہ ہو گی اور گھر آ جائے گا

یہ مکاں گِرتا ہوا جب چھوڑ جائیں گے مکیں

اک پرندہ بیٹھنے دیوار پر آ جائے گا

کوئی میری مُخبری کرتا رہے گا اور پھر

جُرم کی تفتیش کرنے بے خبر آ جائے گا

ہو گیا مٹی اگر میرا پسینہ سُوکھ کر

دیکھنا میرے درختوں پر ثمر آ جائے گا

بندگی میں عشق سی دیوانگی پیدا کرو

ایک دم عاصم دعاؤں میں اثر آ جائے گا


صباحت عاصم واسطی

No comments:

Post a Comment