تم بھٹک جاؤ تو کچھ ذوقِ سفر آ جائے گا
مختلف رستوں پہ چلنے کا ہنر آ جائے گا
میں خلا میں دیکھتا رہتا ہوں اس امید پر
ایک دن مجھ کو اچانک تُو نظر آ جائے گا
تیز اتنا ہی اگر چلنا ہے، تنہا جاؤ تم
بات پوری بھی نہ ہو گی اور گھر آ جائے گا
یہ مکاں گِرتا ہوا جب چھوڑ جائیں گے مکیں
اک پرندہ بیٹھنے دیوار پر آ جائے گا
کوئی میری مُخبری کرتا رہے گا اور پھر
جُرم کی تفتیش کرنے بے خبر آ جائے گا
ہو گیا مٹی اگر میرا پسینہ سُوکھ کر
دیکھنا میرے درختوں پر ثمر آ جائے گا
بندگی میں عشق سی دیوانگی پیدا کرو
ایک دم عاصم دعاؤں میں اثر آ جائے گا
صباحت عاصم واسطی
No comments:
Post a Comment