Monday, 17 May 2021

بھیگی بھیگی پلکوں پر یہ جو اک ستارہ ہے

 بھیگی بھیگی پلکوں پر یہ جو اک ستارہ ہے 

چاہتوں کے موسم کا آخری شمارہ ہے 

امن کے پرندوں کی سرحدیں نہیں ہوتیں 

ہم جہاں ٹھہر جائیں، وہ وطن ہمارا ہے 

شام دستکیں دے گی تب سمجھ میں آئے گا 

زندگی تلاطم ہے، موت اک سہارا ہے 

کیا عجب پہیلی ہے زندگی کا میلہ بھی 

پہلے خود کو ڈھونڈا ہے پھر تجھے پکارا ہے 

آرزو ہے سورج کو آئینہ دکھانے کی 

روشنی کی صحبت میں ایک دن گزارا ہے


اقبال اشہر

اقبال اشعر

No comments:

Post a Comment