جب فکروں پر بادل سے منڈلاتے ہوں گے
انساں گھٹ کر سائے سے رہ جاتے ہوں گے
دو دن کو گلشن پہ بہار آنے کو ہو گی
پنچھی دل میں راگ سدا کے گاتے ہوں گے
دنیا تو سیدھی ہے، لیکن دنیا والے
جھوٹی سچی کہہ کے اسے بہکاتے ہوں گے
یاد آ جاتا ہو گا کوئی جب راہی کو
چلتے چلتے پاؤں وہیں رک جاتے ہوں گے
کلی کلی بِرہن کی چِتا بن جاتی ہو گی
کالے بادل گھِر کر آگ لگاتے ہوں گے
دُکھ میں کیا کرتے ہوں گے دولت کے پجاری
رُوپ کھِلونا توڑ کے من بہلاتے ہوں گے
کالی داس گپتا رضا
No comments:
Post a Comment