Monday, 17 May 2021

جب فکروں پر بادل سے منڈلاتے ہوں گے

 جب فکروں پر بادل سے منڈلاتے ہوں گے

انساں گھٹ کر سائے سے رہ جاتے ہوں گے

دو دن کو گلشن پہ بہار آنے کو ہو گی

پنچھی دل میں راگ سدا کے گاتے ہوں گے

دنیا تو سیدھی ہے، لیکن دنیا والے

جھوٹی سچی کہہ کے اسے بہکاتے ہوں گے

یاد آ جاتا ہو گا کوئی جب راہی کو

چلتے چلتے پاؤں وہیں رک جاتے ہوں گے

کلی کلی بِرہن کی چِتا بن جاتی ہو گی

کالے بادل گھِر کر آگ لگاتے ہوں گے

دُکھ میں کیا کرتے ہوں گے دولت کے پجاری

رُوپ کھِلونا توڑ کے من بہلاتے ہوں گے


کالی داس گپتا رضا

No comments:

Post a Comment