دل جو صورت گر معنی کا صنم خانہ بنے
آنکھ جس شے پہ پڑے جلوۂ جانانہ بنے
اتنے ہی ہو گئے ہم منزل عرفاں کے قریب
جس قدر رسم و رہِ دہر سے بے گانہ بنے
تا درِ یار پہنچتا ہے وہ خود رفتۂ شوق
اپنی ہستی سے جو اس راہ میں بیگانہ بنے
ظرفِ مے ٹُوٹ کے بھی ہونے نہ پائے بیکار
ہو شکستہ کوئی شیشہ تو وہ پیمانہ بنے
سعی ناکام سے میں ہاتھ اٹھاؤں گا نہ برق
میری بگڑی ہوئی تقدیر بنے یا نہ بنے
برق دہلوی
منشی مہاراج بہادر ورما
No comments:
Post a Comment