Monday, 17 May 2021

دل جو صورت گر معنی کا صنم خانہ بنے

 دل جو صورت گر معنی کا صنم خانہ بنے

آنکھ جس شے پہ پڑے جلوۂ جانانہ بنے

اتنے ہی ہو گئے ہم منزل عرفاں کے قریب

جس قدر رسم و رہِ دہر سے بے گانہ بنے

تا درِ یار پہنچتا ہے وہ خود رفتۂ شوق

اپنی ہستی سے جو اس راہ میں بیگانہ بنے

ظرفِ مے ٹُوٹ کے بھی ہونے نہ پائے بیکار

ہو شکستہ کوئی شیشہ تو وہ پیمانہ بنے

سعی ناکام سے میں ہاتھ اٹھاؤں گا نہ برق

میری بگڑی ہوئی تقدیر بنے یا نہ بنے


برق دہلوی

منشی مہاراج بہادر ورما

No comments:

Post a Comment