Monday, 17 May 2021

عشق کے رستے چلتے چلتے ہم ایسے مجبور ہوئے

 عشق کے رستے چلتے چلتے ہم ایسے مجبور ہوئے

ایک ذرا سی ٹھیس لگی تو دل کے شیشے چور ہوئے

پیار میں لاکھوں دل ٹُوٹے اور بنے ہزاروں افسانے

جن میں دل کا درد تھا شامل وہ قصے مشہور ہوئے

سچے لوگوں کو یہ دنیا جینے ہی کب دیتی ہے

ان سے پوچھو جو یہ جیون جینے پر مجبور ہوئے

اس دنیا میں کچھ پانے کا مول چُکانا پڑتا ہے

ملی ہے شہرت جن کو زیادہ وہ اپنوں سے دور ہوئے

اپنا اُجالا بانٹ کے سب کو خود میں ہی کھو جاتے ہیں

ایسے لوگ مگر اے دنیا! تجھ کو کب منظور ہوئے


دیومنی پانڈے

No comments:

Post a Comment