Friday, 8 May 2026

دور فضا میں ایک پرندہ کھویا ہوا اڑانوں میں

 دور فضا میں ایک پرندہ کھویا ہوا اڑانوں میں

اس کو کیا معلوم زمیں پر چڑھے ہیں تیر کمانوں میں

پھول توڑ کے لوگ لے گئے اونچے بڑے مکانوں میں

اب ہم کانٹے سجا کے رکھیں مٹی کے گلدانوں میں

بے در و بام ٹھکانا جس میں دھول دھوپ سناٹا غم

وہی ہے مجھ وحشی کے گھر میں جو کچھ ہے ویرانوں میں

آپ کے قدموں کی آہٹ سے شاید خواب سے جاگ اٹھے

سوئی ہوئی ویران اداسی کمروں میں دالانوں میں

رنج و الم تنہائی کے ساتھی گزر بسر کو کافی ہیں

خوشی تو شامل ہو جاتی ہے آئے گئے مہمانوں میں

ارماں سجے سجے پلکوں پر تار تار تھی اپنی جیب

اپنے لیے تو زخم دل تھے بازار اور دکانوں میں

وقت نے کیسا روپ دیا جو لوگ نہیں پہچان سکے

کاش کہ خود کو دیکھ بھی سکتے جگ کے آئینہ خانوں میں

ذکر شمس اداس کرے گا چھوڑو اور کوئی بات کرو

ایسے شخص کی کیوں تم گنتی گنتے ہو انسانوں میں


شمس فرخ آبادی

No comments:

Post a Comment