یادِ کشمیر
کشمیر خطہ تیرا بالا تر از جہاں ہے
باغِ ارم کا نقشہ کھینچا ہوا یہاں ہے
چاروں طرف کھنچی ہے دیوارِ کوہ تیرے
آبِ رواں کا نقشہ ہر اک طرف رواں ہے
کب چاہتا ہے دریا جہلم یہاں سے گزرے
کشمیر حُسن اپنا کرتا جو تُو عیاں ہے
اُلفت میں تیری ہوتا ہے سُست گام پھر وہ
کرتا جو عشق اس کو مبہوت و ناتواں ہے
سب خوبیاں وہاں کی ہیں یاد تجھ کو صادق
عمرِ عزیز تیری بھی کچھ کٹی وہاں ہے
سید صادق حسین کاظمی
برگِ سبز (کلیاتِ صادق)
No comments:
Post a Comment