عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے چارہ گرِ کُل! تُو ہی مقصود ثنا ہے
تُو مالکِ ہستی ہے، مقدر کا لکھا ہے
تیرے ہی اشارے سے یہ طُوفان ہوا ہے
کیا بحر ہے کیا باد سبھی تیرے نشاں ہیں
تجھ جیسے حمید اور حفیظ کہاں ہیں
راہوں میں ہماری ہے تِرا نور مددگار
ہیں عفو کے ہم تجھ سے شب و روز طلبگار
ہر شے سے تِری صنعتِ اعلیٰ ہے نمودار
تاروں میں ہے ذروں میں تِرا عکس لگاتار
اے تُو کہ غنی اور صفت تیری ہے غفّار
ہے جس کی تمنا ہمیں تُو ہی ہے وہ مقصود
خاموشی و گفتار میں تُو ہی تو ہے مسجود
ہر تُخم کو جاں دے کے اسے کر دیا مسعود
تُو ہی تو اُگاتا ہے ہر اک صبح کو خورشید
ہر لمحہ تغیر میں ہے ہر وقت تبدیل
طاقت میں بھی عطا کی ہمیں ہنگام تنزل
بس تیری عنایات پہ ہے ہم کو توکل
اس طرح اسیری میں آزاد روی ہے
اے مالکِ کونین! تُو قادر ہے قوی ہے
ہم تیری تجلی کا ہی سایہ ہیں جہاں میں
ہم تیری ہی قدرت کی جھلک راز نہاں میں
خوابوں کی تیرے ہم ہی ہیں تعبیر جہاں میں
تجھ پر ہی تِرے بندے کا ایمان ہے یا رب
تُو ہی ہے رحیم اور تُو ہی رحمان ہے یا رب
ام ہانی
رخسانہ نکہت لاری
سروجنی نائیڈو کی انگلش نظم کا اردو ترجمہ
Praise of Islam
Sarojini Naido
No comments:
Post a Comment