Saturday, 9 May 2026

تیرا شکار تجھی پر جھپٹ بھی سکتا ہے

 تیرا شکار تجھی پر جھپٹ بھی سکتا ہے

جو زخم کھا کے گیا ہے پلٹ بھی سکتا ہے   

ابھی بساط بچھی،۔ ابھی غرور نہ کر   

سنبھل کے چل کہ یہ پانسہ پلٹ بھی سکتا ہے

وہ شخص جس کا تکلم تمہیں پسند نہیں

وہ شخص سینکڑوں لہجوں میں بٹ بھی سکتا ہے

مِری نشست سے قد اپنا ناپنے والو

تمہارا قد مِرے اُٹھنے سے گھٹ بھی سکتا ہے

بس اک تجلئ حُسنِ نگاہ کافی ہے

بکھر گیا ہے جو منظر سمٹ بھی سکتا ہے

وداع یوں نہ کرو مجھ کو میرے ہمسفرو

غُبارِ راہ کسی وقت چھٹ بھی سکتا ہے


شرافت عباس

No comments:

Post a Comment