Friday, 8 May 2026

سر پہ سرکار کی خاک کفِ پا رکھی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سر پہ سرکارؐ کی خاک کفِ پا رکھی ہے

ایسا لگتا ہے کہ رحمت کی ردا رکھی ہے

شرم سے میں نے نظر اپنی جُھکا رکھی

ہے سامنے ان کے مری فرد خطا رکھی ہے

تشنگی سرِ محشر کا ہمیں خوف نہیں

ہم نے لو ساقئ کوثر سے لگا رکھی ہے

کس طرح پہنچوں سرِ حشرمیں آقاؐ کے قریب

اہلِ محشر نے بڑی بھیٹر لگا رکھی ہے

اس یقیں پر کہ وہ آئیں گے ضرور آئیں گے

بزم میلاد نبیﷺ، ہم نے سجا رکھی ہے

یہ حسیں خواب بھی ہرشخص کی قسمت میں کہاں

سبز گنبد پہ نظر ہم نے جما رکھی ہے

آندھیاں اٹھتی ہیں کترا کے گزر جاتی ہیں

ہم نے ایمان کی قندیل جلا رکھی ہے

ہو مرض کوئی بھی مستغنی درماں ہو جائے

آبِ زمزم میں وہ قدرت نے شفا رکھی ہے

فتح مکہ کی قسم عام معافی کی قسم

درگزر کی مِرے آقاؐ نے بِنا رکھی ہے

لحنِ داؤدی کی تصدیق ہے وردِ قرآں

ہم نے آواز کی توقیر بڑھا رکھی ہے

نہ یقیں آئے تو مارہرہ میں دیکھو اے حق

یادگار شہِ لولاک لماﷺ رکھی ہے


علامہ عبدالحق بنارسی

No comments:

Post a Comment