Monday, 11 May 2026

حسن ایسا تھا کہ ہر اک آئینہ کم پڑ گیا

 حسن ایسا تھا کہ ہر اک آئینہ کم پڑ گیا

آئینہ کیا عمر بھر کا دیکھنا کم پڑ گیا

آنکھ سے کیا میں تو اپنے دل سے باہر ہوگیا

رقص ہی ایسا تھا ہر اک دائرہ کم پڑ گیا

ان کہی باتوں سے ہی دل کے جہاں آباد ہیں

ورنہ اکثر آدمی نے جو کہا کم پڑ گیا

کتنی باتیں ہیں کہ جن کو سوچنا ممکن نہیں

اور اگر سوچا کبھی تو سوچنا کم پڑ گیا

دل دھڑکنے کی صدا میں اس قدر اسرار ہیں

گفتگو کیا خامشی کا سلسلہ کم پڑ گیا

درد تھا، ہیجان تھا پر آنکھ میں آنسو نہ تھے

جیسے دل تک آتے آتے حادثہ کم پڑ گیا

دل پہ ظاہر ہونے والا آنکھ پر ظاہر نہیں

آرزو سے جستجو تک جانے کیا کم پڑ گیا

حادثہ مامور ہو گا اب مِری تعلیم پر

میری فطرت کے لیے ہر واقعہ کم پڑ گیا

اک زمانہ وہ کہ تھی دل کی گواہی بھی بہت

اک زمانہ یہ کہ جس میں معجزہ کم پڑ گیا

خیر کی میراث نے پوچھا قیامت سے سوال

ابتداء سے انتہا تک جو ہوا کم پڑ گیا؟


شاہنواز فاروقی

No comments:

Post a Comment