عجیب شہر ستمگر ہے کیا کِیا جائے
لہو لہان کبوتر 🕊 ہے کیا کیا جائے
ٹھہر ٹھہر کے اسے پڑھ رہا ہوں میں لیکن
وہ ایک حرفِ مکرّر ہے کیا کیا جائے
بہت قریب سے مِلنے میں ڈر سا لگتا ہے
’’ہر آستین میں خنجر ہے کیا کیا جائے‘‘
اسے پتا ہے مِرا جرم کچھ نہیں پھر بھی
مِری سزا تو مقرّر ہے کیا کیا جائے
ہزاروں کام ادھُورے ہیں زندگی کے، اُدھر
اِدھر یہ موت بھی سر پر ہے کیا کیا جائے
کسی کے خُون میں حدِت نہیں رہی باقی
کسی کا جسم ہی پتّھر ہے کیا کیا جائے
ذرا شعور نہیں ہے عروض کا جس کو
یہاں تو وہ بھی سخنور ہے کیا کیا جائے
قصور دستِ ستمگر کا کچھ نہیں اسلم
مِرا رقیب، مِرا ڈر ہے کیا کیا جائے
ڈاکٹر محمد اسلم پرویز
No comments:
Post a Comment