Monday, 18 May 2026

تمام شے میں وہ اکثر دکھائی دیتا ہے

 تمام شے میں وہ اکثر دکھائی دیتا ہے

بڑا حسین یہ منظر دکھائی دیتا ہے

غموں کی دھوپ میں جلتی ہوئی نگاہوں کو

صنم وفا کا سمندر دکھائی دیتا ہے

تمہارے ہاتھ کی ان بے زباں لکیروں میں

ہمیں ہمارا مقدر دکھائی دیتا ہے

بنا لیا ہے جو شیشے کا گھر یہاں میں نے

ہر اک نگاہ میں پتھر دکھائی دیتا ہے

سبھی کے ہاتھ سنے ہیں لہو سے رشتوں کے

سبھی کی پیٹھ میں خنجر دکھائی دیتا ہے

اگیں گی امن کی فصلیں کہو بھلا کیسے

یہاں تو کھیت ہی بنجر دکھائی دیتا ہے


سمیر پرمل

No comments:

Post a Comment