Monday, 18 May 2026

عشق پھر دوسرے کاموں کی طرح ہوتا ہے

 اول اول تو یہ خوابوں کی طرح ہوتا ہے

عشق پھر دوسرے کاموں کی طرح ہوتا ہے

پہلے فلمیں بھی حقیقت کی طرح ہوتی تھیں

اب حقیقت میں بھی فلموں کی طرح ہوتا ہے

کام کرتا ہے مُسلسل کبھی تھکتا ہی نہیں

باپ گویا کہ مشینوں کی طرح ہوتا ہے

میں تِرے ہجر میں اس درجہ مگن ہوتا ہوں

میرا دن بھی مِری راتوں کی طرح ہوتا ہے

کتنے ہونٹوں پہ سجاتا ہے تبسّم کے گُلاب

وہ جو اک شخص لطیفوں کی طرح ہوتا ہے


سلمان سعید

No comments:

Post a Comment