درد جو دل میں ہے چُھپانا ہے
چشمِ پُر نم کو آزمانا ہے
حسرتیں ہیں دُھواں دُھواں ہر سُو
خواہشوں کو مگر بچانا ہے
اپنی پلکوں کو باندھ کر رکھیے
قیمتی سا یہاں خزانہ ہے
آنکھوں آنکھوں میں ہو گئیں باتیں
اور چُپ چاپ یہ زمانہ ہے
دُنیا والوں سے ہم نہیں ڈرتے
اپنی ٹھوکر پہ یہ زمانہ ہے
راستے کب بدل لیں وہ اپنے
حُسن والوں کا کیا ٹھکانہ ہے
سیف تنہائیوں سے ڈرتا ہوں
بے وفاؤں کا یہ زمانہ ہے
محمد سیف بابر
No comments:
Post a Comment