Thursday, 14 May 2026

اب تو اک عمر ہوئی یاد نہ کر لوں خود کو

 اب تو اک عمر ہوئی یاد نہ کر لوں خود کو

ہوں کہیں ذہن میں ایجاد نہ کر لوں خود کو

وہ خرابہ کہ جہاں کوئی نہ ہو میرے سوا

اس خرابے میں ہی آباد نہ کر لوں خود کو

جانے کس لمحۂ پر درد کی یاد آئی ہے

روتے روتے یوں ہی برباد نہ کر لوں خود کو

وہی تنہائی کا عالم وہی صیاد کا خوف

اپنا زنداں ہوں تو آزاد نہ کر لوں خود کو

حشر کے بعد بھی رہنا ہے زمیں پر مجھ کو

میں جہاں زاد زمیں زاد نہ کر لوں خود کو

یہ جو کھینچے لیے جاتا ہے بیاباں کی طرف

دل کو خدشہ ہے کہ آباد نہ کر لوں خود کو

مل ہی جاؤں گا گئے وقت میں اک دن شارق

لوح امکان پہ ایزاد نہ کر لوں خود کو


شارق جمال

No comments:

Post a Comment