Thursday, 14 May 2026

اور پتھر کی ہو جائے گی

 اور پتھر کی ہو جائے گی


درد ملے تو رو بھی لینا 

آنکھ میں ساون بو بھی لینا

دیکھ سہیلی چپ نہ رہنا 

اندر اندر دکھ نہ سہنا 

ورنہ 

گھٹ کر مر جائے گی

اور 

پتھر کی ہو جائے گی 


نجمہ نسیم 

No comments:

Post a Comment