Sunday, 17 May 2026

کسی کی یاد میں شمعیں جلانا بھول جاتا ہے

 کسی کی یاد میں شمعیں جلانا بھُول جاتا ہے

کوئی کتنا ہی پیارا ہو زمانہ بھول جاتا ہے

کسی دن بے نیازی اس کی مجھ کو مار ڈالے گی

خفا کرتا ہے وہ لیکن منانا بھول جاتا ہے

رُخ روشن پہ زُلفوں کا یہ گرنا جان لیوا ہے

اور اس پر یہ ستم دلبر ہٹانا بھول جاتا ہے

اگر ہے بھُولنا مجھ کو کسی سے پیار کر لینا

نیا بنتا ہے جب رشتہ پُرانا بھول جاتا ہے

اسی باعث میں سینے سے اسے اُڑنے نہیں دیتا

یہ دل ایسا پرندہ ہے ٹھکانا بھول جاتا ہے

ہمیں ہے وصل کی خواہش مگر یہ کام دنیا کے

میں جانا بھُول جاتا ہوں وہ آنا بھول جاتا ہے

کسی سے کیا کروں شکوہ ملے ہیں زخم ہی ایسے

کہ جن پر وقت بھی مرہم لگانا بھول جاتا ہے

کوئی آسیب ہے شاید تمہارے شہر میں ثانی

یہاں پہ رہنے والا مُسکرانا بھول جاتا ہے


سہیل ثانی

No comments:

Post a Comment