موت
اے اجل دریائے ہستی میں ہے طوفاں خیز تُو
سب سے بڑھ کر ہے زمانے میں بلا انگیز تُو
چھیننا بچوں کا ماؤں سے تجھے مرغوب ہے
خاتمہ ہستی کا میری کس لیے مطلوب ہے
گُلشنِ ہستی ہے تیرے ہاتھ سے وقفِ خزاں
چند دن کی میہماں ہے یہ بہارِ بُوستاں
تھی کہیں نزدیک بولی سُن کے ہو کر خشگمیں
میں تِری ہستی کا ناداں خاتمہ کرتی نہیں
اِک نئی دُنیا کا تیرے واسطے پیغام ہوں
میں نویدِ صُبح لاتی ہوں اگرچہ شام ہوں
سید صادق حسین کاظمی
برگِ سبز (کلیاتِ صادق)
No comments:
Post a Comment