Friday, 15 May 2026

ڈولی میں آج بیٹھ کے بیٹی چلی گئی

 ڈولی میں آج بیٹھ کے بیٹی چلی گئی

گھر چیختا ہے گھر کی تجلّی چلی گئی

میں نے کسی فقیر کو لوٹا دیا ہے کیا

کیوں میرے گھر سے رُوٹھ کے روزی چلی گئی

بیٹا وہی ہے، میں بھی وہی، رشتہ بھی وہی

بس یوں ہوا کہ لہجے کی نرمی چلی گئی

بے شک عبادتوں میں کمی تو نہیں مگر

جو رُوحِ بندگی تھی وہ نیکی چلی گئی

اکیسویں صدی نے بہت کچھ دیا ہمیں

لیکن ہماری سادہ مزاجی چلی گئی


شاہجہاں شاد

No comments:

Post a Comment