ڈولی میں آج بیٹھ کے بیٹی چلی گئی
گھر چیختا ہے گھر کی تجلّی چلی گئی
میں نے کسی فقیر کو لوٹا دیا ہے کیا
کیوں میرے گھر سے رُوٹھ کے روزی چلی گئی
بیٹا وہی ہے، میں بھی وہی، رشتہ بھی وہی
بس یوں ہوا کہ لہجے کی نرمی چلی گئی
بے شک عبادتوں میں کمی تو نہیں مگر
جو رُوحِ بندگی تھی وہ نیکی چلی گئی
اکیسویں صدی نے بہت کچھ دیا ہمیں
لیکن ہماری سادہ مزاجی چلی گئی
شاہجہاں شاد
No comments:
Post a Comment