Monday, 18 May 2026

ہو خوشی مجھ کو کہ غم خیر تمہیں کیا اس سے

 ہو خوشی مجھ کو کہ غم خیر تمہیں کیا اس سے

تم کرو مشقِ سِتم خیر تمہیں کیا اس سے

صُبحِ نو اب ہے شبِ غم میں بدلنے والی

پھر نہ مِل پائیں گے ہم خیر تمہیں کیا اس سے

یاد آتے ہی برس پڑتی ہیں آنکھیں اکثر

کتنے رُسوا ہوئے ہم خیر تمہیں کیا اس سے

کاش آ جاتے کبھی پُرسشِ غم کو میری

کچھ تو رہ جاتا بھرم خیر تمہیں کیا اس سے

تجھ کو ساقی! تِرا مے خانہ مبارک، ہم تو

اب چلے سُوئے حرم خیر تمہیں کیا اس سے

دیکھ کر ہم کو زمانہ بھی ہے حیرت میں نسیم

کیا تھے کیا ہو گئے ہم خیر تمہیں کیا اس سے


سمیعہ نسیم

No comments:

Post a Comment