Wednesday, 20 May 2026

میرے لفظوں سے میری تحریروں سے کیا ہونا ہے

 میرے لفظوں سے

میری تحریروں سے

کیا ہونا ہے؟ کُچھ بھی نہیں

ان نظموں میں

ان ساری کتابوں میں

ان باتوں میں کیا ہے؟

کُچھ بھی نہیں مجھے

میری گفتگو سے نہیں معاملات کی سچائی

یعنی فرشتوں کی لکھائی

سے جانچا جانا ہے

کُچھ خیالوں

کُچھ خوابوں کے لیے

کُچھ بے معنی سوالوں جوابوں کے لیے

دونو جہاں کیوں اپنے برباد کریں

جس مقصد کو بھیجا گیا ہے

ہے انسان کو وہ مطلب

ہم کیوں نا تلاش کریں

اصل بحر اور موجوں کو چھوڑ کر

کیوں سرابوں میں دوڑیں

کیوں عذابوں میں گھومیں

گھڑی دو گھڑی کی زندگی

اور پھر اس سے

بھی مختصر

اس کی رفاقتیں

اس کی وابستگیاں

کیوں وقتی راحتیں دیکر

ہمیشگی کی وحشتیں خریدیں

اور ساری پونجی یوں لُٹا کر

پچھتاؤں کی فصلیں کاٹیں

نچھاور کر دیں ساری کوششیں

ساری محنتیں

کبھی محبت کے نام پر

کبھی رشتوں کے نام پر

کبھی خواہشوں کے نام پر

اور پھر ہاتھ بھی خالی رہیں

مہنگا ہے یہ سودا

روح اور جان

گنوانے سے پہلے

زندگی! تُو خوبصورت تو ہے بہت

مگر صِرف

سمجھ آنے سے پہلے


سعدیہ ثناء

No comments:

Post a Comment