دنیا کی محبت میں مِلا کچھ بھی نہیں ہے
دو روز کی ذلت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
کہتے تھے کہ ہم بچھڑے تو مر جائیں گے دونوں
بچھڑے ہیں تو دونوں کو ہوا کچھ بھی نہیں ہے
انصاف کا پیمانہ تو ہے زندہ ضمیری ⚖
بے حِس ہوں تو پھر اچھا بُرا کچھ بھی نہیں ہے
بس میری مسیحائی کو لازم ہے تِرا وصل
ورنہ تو مِرے غم کی دوا کچھ بھی نہیں ہے
پردہ تو اک احساس کی چادر ہے مِرے دوست
عریانی پہ کپڑے کی رِدا کچھ بھی نہیں ہے
واقف! تِری کوشش کا نتیجہ ہے مقدر
ورنہ تِری قسمت میں لکھا کچھ بھی نہیں ہے
سلیم واقف
No comments:
Post a Comment