رنگ کو رقص میں لاؤں کیسے
پھول کو تتلی بناؤں کیسے🌹
آگ خُوشبو میں لگاؤں کیسے
شاخ صندل کی جلاؤں کیسے
روشنی آنکھ کو نم رکھتی ہے
یاد کا دِیپ 🛋 جلاؤں کیسے
کھو گیا ہوں میں جہاں ہوں موجود
خُود کو اب ڈُھونڈ کے لاؤں کیسے
کوئی بھٹکی ہوئی تعبیر ہوں میں
لوٹ کے خواب میں جاؤں کیسے
کوئی تو پیڑ ہو آغوش کُشا
دُھوپ سے چھاؤں میں آؤں کیسے
اُلٹے دریا میں سفر ہے درپیش
پار کشتی کو لگاؤں کیسے
جانتا ہوں کہ خمیدہ ہے کمر
گِرتی دیوار اُٹھاؤں کیسے
سفیان صفی
No comments:
Post a Comment